MOJ E SUKHAN

دل تھا کہ پھول بن کے بکھرتا چلا گیا

دل تھا کہ پھول بن کے بکھرتا چلا گیا
تصویر کا جمال ابھرتا چلا گیا

شام آئی اور آئی کچھ اس اہتمام سے!
وہ گیسوئے دراز بکھرتا چلا گیا

غم کی لکیر تھی کہ خوشی کا اداس رنگ
ہر نقش آئینے میں ابھرتا چلا گیا

ہر چند راستے میں تھے کانٹے بچھے ہوئے
جس کو تیری طلب تھی گزرتا چلا گیا

جب تک تری نگاہ نے توفیق دی مجھے
میں تیری زلف بن کے سنورتا چلا گیا

دو ہی تو کام تھے دلِ ناداں کو اے عدمؔ!
جِیتا چلا گیا کبھی مرتا چلا گیا

عبدالحمید عدم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم