Dunya ajeeb hay ye zamana ajeeb hay
غزل
دنیا عجیب ہے یہ زمانہ عجیب ہے
ہر شخص کا یہاں پہ فسانہ عجیب ہے
مارا تھا تم نے جسم پہ اور دل پہ لگ گیا
اے ہم نشیں ! تمہارا نشانہ عجیب ہے
یہ بات بھی نہ تھی مرے وھم و گمان میں
قسمت کو اُس سے مجھ کو ملانا عجیب ہے
دیتا یے رزق سب کو سمندر میں تُو خدا
یارب ! تمہارے گھر کا خزانہ عجیب ہے
کب کس کی روح قبض کرے گا نہیں پتہ
اے خضرِ راہ ! تیرا بہانہ عجیب ہے
اس کا نہ آشیاں ہے نہیں ہے کوئی خبر
میری طرح قمرؔ کا ٹھکانہ عجیب ہے
قمرِ عالم قمرؔ
qamer alam qamer