MOJ E SUKHAN

رات اب آنکھوں میں کٹنے لگ گئی

Raat abh aankhoo main katnay lag gayee

غزل

رات اب آنکھوں میں کٹنے لگ گئی
ذات بھی خانوں میں بٹنے لگ گئی

مخملی یادوں نے جب دل کو چھوا
درد کی پھر دھند چھٹنے لگ گئی

راس آئی جب محبت زیست تب
اس کی بانہوں میں سمٹنے لگ گئی

اک سحر چھایا ہے ہر اک شام اب
اس کی باتوں میں ہی کٹنے لگ گئی

جب وفا راس آئی تجھ کو شاز تب
ہجر کی تلخی بھی گھٹنے لگ گئی

شاز ملک

shaz malik

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم