MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

راہبر ایسا ہو جو خود بھی ہو منزل آشنا

راہبر ایسا ہو جو خود بھی ہو منزل آشنا
جس طرح لہریں ہوا کرتی ہیں ساحل آشنا

چاند کی ہے چاندنی تاروں کی جھلمل آشنا
نغمگی پھولوں کی آوازِ عنادل آشنا

دل تلاشے ہے کہ مل جائے کوئی دل آشنا
چلمنیں ہوں ساری واقف اورمحمل آشنا

کل تلک تو لوگ ہم سے تھے گریزاں اسقدر
آج ایسا کیا کہ ہے محفل کی محفل آشنا

کیوں ڈراتے ہو کہ ہے تاریکی، صحرا اور سفر
ہم کہ ہیں مشکل پسند ہم سے ہے مشکل آشنا

میں تو اسکی آنکھ میں رہتا تھا پتلی کی طرح
کس طرح اس راز سے تھا میرا قاتل آشنا

وہ بظاہر دور ہو، واقف ہو میرے حال سے
اس طرح کا تو کوئی مل جائے اے دل آشنا

پھر اسی کے ہاتھ سے شاید لگا نشتر مجھے
ہاتھ کی جنبش سے سمجھا قلب بسمل آشنا

موسموں کی سختیاں ہم پر گراں ہوتی نہیں
ہم مسافر لوگ ہیں ہم سے ہے یہ گل آشنا

اہل دانش کچھ کہیں ہم تو الجھ کر رہ گئے
عقل محو فکر فردا دل بہ مایل آشنا

ہے یہی اک آرزو بس رہگذار زیست میں
آشنا ایسا ملے جو ہو مسائل آشنا

واہ وا شعروں پہ خاور کیا سند سمجھے ہو تم
تم کوئی قابل نہیں ہو اور نہ قابل آشنا

ندیم خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم