غزل
رفوئے دامن صد تار تار رہنے دے
جو رہ گئی ہے وہی یادگار رہنے دے
وفا نہیں نہ سہی رشتۂ جفا ہی سہی
وہ رابطہ تو کوئی برقرار رہنے دے
وہ بات کر کہ جو میرے لیے عجیب نہ ہو
میں اور تجھ کو مرا انتظار رہنے دے
ہمارا حال سر راہ پوچھنے والے
یہ التفات سر رہ گزار رہنے دے
مری شکست انا کا خیال کر ظالم
بھرم کچھ اے دل بے اختیار رہنے دے
یہ دل ہی بزمؔ ابھی لائق مراد نہیں
ابھی کچھ اور اسے بے قرار رہنے دے
بزم انصاری