رگوں میں دوڑتا جتنا لہو ضروری ہے
ہمارے واسطے اتنا ہی تو ضروری ہے
کوئی جواز تو ہو اپنے زندہ ہونے کا
سکوتِ شب سے سہی گفتگو ضروری ہے
کچھ ایسی سرد ہوائیں گزرنے والی ہیں
ترا حصار مرے چار سو ضروری ہے
ہمارا تذکرہ کرتا پھرے جو غیروں میں
ہجومِ دوستاں میں اک عدو ضروری ہے
جو چاہتے ہو وہ عرفان مل ہی جائے گا
تمام عمر مگر جستجو ضروری ہے
عرفان صادق