MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رہے دل کی دل میں زباں تک نہ پہنچے

غزل

رہے دل کی دل میں زباں تک نہ پہنچے
مرا غم حدود بیاں تک نہ پہنچے

یہ ہستی نہ ہو بے خودی رفتہ رفتہ
کہیں خواب خواب گراں تک نہ پہنچے

ترا مرتبہ اے زمیں اللہ اللہ
تری گرد کو آسماں تک نہ پہنچے

دیا تو مری آرزو کا جلے اور
اجالا کسی کے مکاں تک نہ پہنچے

یہی اب ہے بہتر کہ چپ سادھ لیجے
کوئی بات پھر داستاں تک نہ پہنچے

نہ چھیڑیں وہ تار رگ جاں سعادتؔ
کہیں نغمۂ دل فغاں تک نہ پہنچے

سعادت نظیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم