MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زخم دکھانے لگ جاتی ہے جان کو آنے لگ جاتی ہے

غزل

زخم دکھانے لگ جاتی ہے جان کو آنے لگ جاتی ہے
رات گئے تنہائی جس دم شور مچانے لگ جاتی ہے

عشق دماغ کی چکر بازی حسن سراسر دید کا دھوکہ
دل کو یہ سب کہتے کہتے عمر ٹھکانے لگ جاتی ہے

اس شرمیلی سی لڑکی سے جب بھی دل کی حالت پوچھی
سیدھی بات نہیں کرتی ہے نظم سنانے لگ جاتی ہے

رات کو محرم راز سمجھ کر رات سے راز کی بات کہو تو
رات کہاں چپ رہ پاتی ہے بات بڑھانے لگ جاتی ہے

اندر کے حالات کو باہر کی دنیا سے لاکھ چھپائیں
وحشت گھر کی بھیدی بن کر لنکا ڈھانے لگ جاتی ہے

افتخار حیدر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم