MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زندگی میں نے ہزاروں خواہشوں میں بانٹ دی

غزل

زندگی میں نے ہزاروں خواہشوں میں بانٹ دی
جیسے اک تصویر ٹوٹے آئنوں میں بانٹ دی

رنج و غم خوف و اذیت رتجگے محرومیاں
دل کی بستی اب ہزاروں بستیوں میں بانٹ دی

مفلسی میں اور کیا دیتے بھلا احباب کو
درد کی دولت بچی تھی دوستوں میں بانٹ دی

اب طلوع ہو یا نہ ہو صبح کرم کیا فائدہ
میں نے شام بے بسی تاریکیوں میں بانٹ دی

جب ملا اذن رہائی زندگی کی قید سے
آخری سانسوں کی دولت حسرتوں میں بانٹ دی

میرے ہمسائے نے جو کتے کو پھینکی تھی نصیرؔ
میں نے وہ روٹی اٹھا کر بچیوں میں بانٹ دی

نصیر بلوچ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم