MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ساحل سے واپس ہو لیے سارے صدف رستہ نہ تھا

ساحل سے واپس ہو لیے سارے صدف رستہ نہ تھا
گم ہو گئے گرداب میں گوہر بکف رستہ نہ تھا

رکھی تھی اک سل راہ میں ہستی کا حاصل راہ میں
آنکھیں تھیں حائل راہ میں دل کی طرف رستہ نہ تھا

خاموش تھے اہلِ سخن چپ چاپ تھا پتوں کا بن
کیسی لگن کیسی چبن کیسا شرف رستہ نہ تھا

زخموں سے رِستا تھا لہو آساں نہ تھا کارِ رفو
نا پید تھے نم اور نمو خوش تھے حذف رستہ نہ تھا

صحرا سے گھر تک دُھول تھی، راہِ سفر تک دُھول تھی
حدِ نظر تک دُھول تھی ، چاروں طرف رستہ نہ تھا

سارے بدن پر تھا کلف ، گویا ہوا تھی برطرف
چلتا تھا میں سوئے نجف، بَجتی تھی دف رستہ نہ تھا

زنجیر تھے اہلِ جنوں اخترؔ نگر پر تھا فسوں
اُلٹے ہوئے کچھ آئینے تھے صف بہ صف رستہ نہ تھا


اختر عثمان​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم