MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سامنے اک بے رحم حقیقت ننگی ہو کر ناچتی ہے

سامنے اک بے رحم حقیقت ننگی ہو کر ناچتی ہے
اس کی آنکھوں سے اب میری موت کی خواہش جھانکتی ہے

جسم کا جادو اس دنیا میں سر چڑھ کر جب بولتا ہے
روح مری شرمندہ ہو کر اپنا چہرہ ڈھانپتی ہے

اس کی جھولی میں سب کھوٹے سکے ڈالے جائیں گے
جانتی ہے یہ اندھی بھکارن پھر بھی دن بھر مانگتی ہے

میرا خون پیا تو اس کو تازہ لہو کی چاٹ لگی
اب وہ ناگن اپنی زباں سے اپنا لہو بھی چاٹتی ہے

اب کی بار اے بزدل قسمت کھل کر میرے سامنے آ
کیوں اک دھچکا روز لگا کر باقی کل پر ٹالتی ہے

ماضی کی تربت سے نکل آتی ہے کسی کی یاد کی لاش
میری سوچ مری دشمن ہے روز مصیبت ڈالتی ہے

صحرا کا بادل دو بوندیں برسا کر اڑ جاتا ہے
پیاسی بنجر بانجھ زمیں کچھ اور زیادہ ہانپتی ہے

اب تک سوئی ہوئی تھی وہ آسائش کے گہوارے میں
انگڑائی سی لے کر شبنمؔ آج انا کیوں جاگتی ہے

شبنم شکیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم