MOJ E SUKHAN

ستارہ لے گیا ہے میرا آسمان سے کون

ستارہ لے گیا ہے میرا آسمان سے کون
اتر رہا ہے شمارؔ آج میرے دھیان سے کون

ابھی سفر میں کوئی موڑ ہی نہیں آیا
نکل گیا ہے یہ چپ چاپ داستان سے کون

لہو میں آگ لگا کر یہ کون ہنستا ہے
یہ انتقام سا لیتا ہے روح و جان سے کون

یہ دار چوم کے مسکا رہا ہے کون ادھر
گزر رہا ہے تمہارے یہ امتحان سے کون

زمین چھوڑنا فی الحال میرے بس میں نہیں
دکھائی دینے لگا پھر یہ آسمان سے کون

اختر شمار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم