MOJ E SUKHAN

سرسری خواب کی تکميل اٹھا لائے ہیں

سرسری خواب کی تکميل اٹھا لائے ہیں
دشت والے ہیں مگر نیل اٹھا لائے ہیں

آپ کو آگ بجھانے کے لیے بھیجا تھا
آپ نقصان کی تفصیل اٹھا لائے ہیں

زندگی خانہ بدوشوں کی کوئی حالت تھی
ہم تجھے پھر بھی کئی میل اٹھا لائے ہیں

پھول ہوتے ہیں امر پیر پکڑ کر اس کے
لوگ کس چیز کی تمثیل اٹھا لائے ہیں

عشق مذہب کی ضمانت نہیں مانگا کرتا
آپ تو ہاتھ میں انجیل اٹھا لائے ہیں

میں نے پریوں کو بلانے کے لیے بھیجے تھے
کچھ کبوتر تو یہاں جھیل اٹھا لائے ہیں

میں ابھی نیند بنانے میں لگا ہوں ساجد
لوگ تو خواب کی تشکیل اٹھا لائے ہیں

لطیف ساجد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم