MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سواد منظر خواب پریشاں کون دیکھے گا

سواد منظر خواب پریشاں کون دیکھے گا
اسیر زلف ہو کر شام ہجراں کون دیکھے گا

گلوں کی دل کشی فصل بہاراں کون دیکھے گا
نہ ہوں گے جب ہمیں رنگ گلستاں کون دیکھے گا

شب غم تم نہ آئے غم نہیں غم ہے تو یہ غم ہے
مرے دامن پہ اشکوں کا چراغاں کون دیکھے گا

گداز شمع کی صورت جواز غم کرو پیدا
یہ پروانو تمہارا سوز پنہاں کون دیکھے گا

قیامت میں لبوں پر شکوہ‌ ہائے پر جفا لا کر
تری معصوم فطرت کو پشیماں کون دیکھے گا

یقیناً شوق کے پردوں کو بھی آنکھوں سے اٹھنا ہے
نہیں تو حشر میں کل روئے جاناں کون دیکھے گا

گریباں پھاڑ کر جنبشؔ چلو پھولوں کی محفل میں
یہ صحرا ہے یہاں حال پریشاں کون دیکھے گا

جنبش خیرآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم