MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

شدت درد جگر ہو یہ ضروری تو نہیں

شدت درد جگر ہو یہ ضروری تو نہیں
اور پھر آنکھ بھی تر ہو یہ ضروری تو نہیں

بے خودی باعث کلفت بھی تو ہو سکتی ہے
ہر نفس کیف اثر ہو یہ ضروری تو نہیں

خود کو پامال ہی کرنا ہے تو اے جوش جنوں
وہ تری راہگزر ہو یہ ضروری تو نہیں

نشۂ خواب چرا لائے تری آنکھوں سے
نالۂ شب میں اثر ہو یہ ضروری تو نہیں

نظر آتا ہے جدھر سلسلۂ نقش قدم
میری منزل بھی ادھر ہو یہ ضروری تو نہیں

شاطر حکیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم