MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

شکست خواب کا ہمیں ملال کیوں نہیں رہا

شکست خواب کا ہمیں ملال کیوں نہیں رہا
بچھڑ گئے تو پھر ترا خیال کیوں نہیں رہا

اگر یہ عشق ہے تو پھر وہ شدتیں کہاں گئیں
اگر یہ وصل ہے تو پھر محال کیوں نہیں رہا

وہ زلف زلف رات کیوں بکھر بکھر کے رہ گئی
وہ خواب خواب سلسلہ بحال کیوں نہیں رہا

وہ سایہ جو بجھا تو کیا بدن بھی ساتھ بجھ گیا
نظر کو تیرگی کا اب ملال کیوں نہیں رہا

وہ دور جس میں آگہی کے در کھلے تھے کیا ہوا
زوال تھا تو عمر بھر زوال کیوں نہیں رہا

کہیں سے نقش بجھ گئے کہیں سے رنگ اڑ گئے
یہ دل ترے خیال کو سنبھال کیوں نہیں رہا

عرفان ستار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم