MOJ E SUKHAN

عجب مرحلوں سے گزارا گیا میں

غزل

عجب مرحلوں سے گزارا گیا میں
پھر اس خاک داں پر اتارا گیا میں

ضرورت نہیں تھا میں دن بھر کسی کی
جہاں شام آئی پکارا گیا میں

خبر ہی نہیں تھی سفر ہے کہاں تک
جہاں تک گیا وہ ستارہ گیا میں

محبت نہیں میں تماشا تھا جیسے
گلی سے تری یوں گزارا گیا میں

میں درویش تھا اور نہ عاشق مگر دل
ترے سنگ بے موت مارا گیا میں

مجھے تو طلب تھی محبت کی خاورؔ
مگر تہمتوں سے سنوارا گیا میں

اقبال خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم