MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عزم سفر سے پہلے بھی اور ختم سفر سے آگے بھی

عزم سفر سے پہلے بھی اور ختم سفر سے آگے بھی
راہ گزر ہی راہ گزر ہے راہ گزر سے آگے بھی

تاب نظر تو شرط ہے لیکن حد نظر کیوں حائل ہے
جلوہ فگن تو جلوہ فگن ہے حد نظر سے آگے بھی

صبح ازل سے شام ابد تک میرے ہی دم سے رونق ہے
اس منظر سے اس منظر تک اس منظر سے آگے بھی

وہم و گماں سے علم و یقیں تک سیکڑوں نازک موڑ آئے
روئے زمیں سے شمس و قمر تک شمس و قمر سے آگے بھی

دل سے دعا نکلے تو یقیناً باب اثر تک پہنچے گی
آہ جو نکلے دل سے تو پہنچے باب اثر سے آگے بھی

دیدۂ تر کا اب تو اخگرؔ ایک ہی عالم رہتا ہے
نالۂ شب سے آہ سحر تک آہ سحر سے آگے بھی

حنیف اخگر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم