MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عشق میں کیا کیا میرے جنوں کی کی نہ برائی لوگو نے

غزل

عشق میں کیا کیا میرے جنوں کی کی نہ برائی لوگو نے
کچھ تم نے بدنام کیا کچھ آگ لگائیں لوگو نے

میرے لہو کے رنگ سے چمکی مہندی کتنے ہاتھوں پر
شہر میں جس دن قتل ہوا میں عید منائی لوگو نے

ہم ہی ان کو بام پے لائے اور ہم ہی محروم رہے
پردہ اپنے نام سے اٹھا آنکھ ملائی لوگوں نے

لوگوں کا بھی احسان ہے ہم پر ہم تیرے بھی شکر گزار
تیری نظر نے مارا ہم کو لاش اٹھائی لوگو نے

لوگوں نے ارمان نکالے ہمیں ہی بگڑی راس نہ آئی
ہم کو ظفرؔ کل شیخ سمجھ کر خوب پلائی لوگوں نے

ظفر گورکھ پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم