MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عشق میں ہو کے مبتلا دل نے کمال کر دیا

عشق میں ہو کے مبتلا دل نے کمال کر دیا
یوں ہی سی ایک شکل کو زہرہ جمال کر دیا

ہم کو تمہاری بزم سے اٹھنے کا کچھ قلق نہیں
جیسا خیال ہو سکا ویسا خیال کر دیا

سیل روان عمر کے آگے ٹھہر سکا نہ کچھ
وقت نے مہر حسن کو رو بہ زوال کر دیا

ایک سم عذاب سا پھیل گیا وجود میں
روز و شب فراق نے جینا محال کر دیا

میری زبان خشک پر ریت کا ذائقہ سا ہے
موسم بر شگال نے کیسا یہ حال کر دیا

دھند میں کھو کے رہ گئیں صورتیں مہر و ماہ سی
وقت کی گرد نے انہیں خواب و خیال کر دیا

عظیم حیدر سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم