Aish Karnay dejyee pagal Banany dejyee
غزل
عیش کرنے دیجیے پاگل بنانے دیجیے
کھا رہے ہیں تخت والے مل کے کھانے دیجیے
اب بھی باقی ہے ہمارے جسم میں کچھ گوشت پوست
خون پینے دیجیے ہڈّی چبانے دیجیے
جل رہا ہے اپنا چولھا اب تلک تو ٹھیک ہے
اہلِ فاقہ مر رہے ہیں مر ہی جانے دیجیے
دل جلا ہے پڑھ کے غزلیں ایک محفل میں بہت
لکھ کے غزلیں رات بھر غزلیں جلانے دیجیے
میرے اندر ایک طوفاں ہے جو باہر آئے گا
تھوڑے عرصے ضبط کر کے مسکرانے دیجیے
ہیں محافظ اصل میں مجرم یہاں بولوں گا میں
جان جاتی ہے مری تو جان جانے دیجیے
کچھ سماجی مسئلوں سے واسطہ ان کو نہیں
شاعروں کو شاعری میں سر کھپانے دیجیے
(شاہ فہد)
Shah Fahad