MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

فن کی اور ذات کی پیکار نے سونے نہ دیا

فن کی اور ذات کی پیکار نے سونے نہ دیا
دل میں جاگے ہوئے فن کار نے سونے نہ دیا

ہر طرف تپتی ہوئی دھوپ مرے ساتھ گئی
زیر سایہ کسی دیوار نے سونے نہ دیا

ایک معصوم سی صورت کو کہیں دیکھا تھا
پھر بھی چشمان گنہ گار نے سونے نہ دیا

میرے ہم سایے میں شاید ہے کوئی مجھ جیسا
ہے جو چرچا کسی بیمار نے سونے نہ دیا

کل مرے شہر میں اک ظلم کچھ ایسا بھی ہوا
رات بھر غیرت فنکار نے سونے نہ دیا

جاگتے رہنے کا آرام تو کیا ہم کو بھی
چین سے شدت افکار نے سونے نہ دیا

کل کچھ ایسی ہی سر بزم مری بات گری
کسی پہلو مرے پندار نے سونے نہ دیا

ایک دھڑکا سا لگا تھا کہ سحر دم کیا ہو
سر پہ لٹکی ہوئی تلوار نے سونے نہ دیا

کرار نوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم