MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

لطف یہ ہے جسے آشوب جہاں کہتا ہوں

لطف یہ ہے جسے آشوب جہاں کہتا ہوں
اسی ظالم کو فروغ دل و جاں کہتا ہوں

غیر کا ذکر ہی کیا مفت میں الزام نہ دو
دل کی ہر بات میں تم سے بھی کہاں کہتا ہوں

کسی مجبور کے ہونٹوں پہ جو آ جاتا ہے
اس تبسم کو میں اعجاز فغاں کہتا ہوں

نہ میں زندانی‌ٔ صحرا نہ اسیر گلشن
کوئی بندش ہو اسے جی کا زیاں کہتا ہوں

دل شکستہ سہی مایوس نہیں ہوں اے دوست
میں کہ ہر دور کو دور گزراں کہتا ہوں

حسن کا شیوۂ پیماں شکنی اچھا ہے
پھر بھی ہر سانس کو چشم نگراں کہتا ہوں

کوئی حد ہے مری آشفتہ سری کی تاباںؔ
ان کی زلفوں کو چراغوں کا دھواں کہتا ہوں

غلام ربانی تاباں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم