Lafzoon kay patharoo say na zakhmi karo mujhy
غزل
لفظوں کے پتِھروں سے نہ زخمی کرو مجھے
بہتر ہے قتل کردو مرے دوستو مجھے
چہرے سیاہ کر گئی غیبت کی تیز دھوپ
میں نے کہا نہ تھا کہ برا مت کہو مجھے
نیلا ہٹوں کی زد پہ ہے ہر شخص کا بدن
اس صم کدے سے دور کہیں لے چلو مجھے
بخئے شرافتوں کے ادھڑتے ہیں بزم میں
رہنے دو اب تو گھر میں سخن پرورو مجھے
تیشہ بھی کار گر نہ ہو وہ سنگِ سخت ہوں
تم کیا بھلا تراشو گے شیشہ گرو مجھے
سنبل غبارِ وقت کا مجھ پر اثر نہیں۔
شفاف آئینہ ہوں ذرا دیکھ لو مجھے
صبیحہ سنبل
Sabiha Sunbal