MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

لمحوں میں زندگی کا سفر یوں گزر گیا

ایک غریب شاعر کی موت

لمحوں میں زندگی کا سفر یوں گزر گیا
سائے میں جیسے کوئی مسافر ٹھہر گیا

مخمور تھا نشے میں غم روزگار کے
ہوش آ گیا تو عمر کا پیمانہ بھر گیا

دولت بھی اس کے ہاتھ نہ آئی تمام عمر
کچھ نام ہی نہ اپنا زمانے میں کر گیا

سب اس کے خیر خواہ بلندی پہ رہ گئے
شہرت کی سیڑھیوں سے وہ نیچے اتر گیا

موقعہ پرست آب و ہوا میں نہ جی سکا
اپنی انا کی قید میں جاں سے گزر گیا

موت اس کی ساری مشکلیں آسان کر گئی
اک بوجھ زندگی کا تھا سر سے اتر گیا

افسوس کم ہوا مگر حیرت بہت ہوئی
جب ؔخواہ مخواہ عین ضعیفی میں مر گیا

غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم