MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مجھ سے چھپ کر مرے ارمانوں کو برباد نہ کر

مجھ سے چھپ کر مرے ارمانوں کو برباد نہ کر
داد خواہی کے لیے آیا ہوں بیداد نہ کر

دیکھ مٹ جائے گا ہستی سے گزر جائے گا
دل نا عاقبت اندیش انہیں یاد نہ کر

آ گیا اب تو مجھے لطف اسیری صیاد
ذبح کر ڈال مگر قید سے آزاد نہ کر

جس پہ مرتا ہوں اسے دیکھ تو لوں جی بھر کے
اتنی جلدی تو مرے قتل میں جلاد نہ کر

آپ تو ظلم لگاتار کئے جاتے ہیں
مجھ سے تاکید پہ تاکید ہے فریاد نہ کر

جلوہ دکھلا کے مرا لوٹ لیا صبر و قرار
پھر یہ کہتے ہیں کہ تو نالہ و فریاد نہ کر

آپ ہی اپنی جفاؤں پہ پشیمان ہیں وہ
ان کو محجوب زیادہ دل ناشاد نہ کر

اے صبا کوچۂ جاناں میں پڑا رہنے دے
خاک ہم خاک نشینوں کی تو برباد نہ کر

ہم تو جب سمجھیں کہ ہاں دل پہ ہے قابو بیدمؔ
وہ تجھے بھول گئے تو بھی انہیں یاد نہ کر

بیدم شاہ وارثی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم