MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مجھ کو قدم قدم پہ ترا انتظار ہے

غزل

مجھ کو قدم قدم پہ ترا انتظار ہے
شاید کہ میرے واسطے فصل بہار ہے

آنکھوں سے تو نے مجھ کو پلائی تھی وہ شراب
میرے بدن میں آج بھی اس کا خمار ہے

بیٹھی ہوں انتظار میں تکتی ہوں رہ تری
راحت سکون و چین نہ مجھ کو قرار ہے

آیا پلٹ کے تو نہ خبر تیری آ سکی
یادوں کا آج بھی تری قائم مزار ہے

جو لوگ سچے عشق میں مقبول ہو گئے
اے شاہ دل ہمارا بھی ان میں شمار ہے

اڑ اڑ کے آ رہی ہے مہک تیرے جسم کی
محسوس ہو رہا ہے یہ تیرا دیار ہے

کل رات میرے خواب میں چومے تھے اس نے لب
شاید یہ اس کے لمس کا مجھ پر نکھار ہے

دعا علی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم