MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مرا ہی بن کے وہ بت مجھ سے آشنا نہ ہوا

مرا ہی بن کے وہ بت مجھ سے آشنا نہ ہوا
وہ بے نیاز تھا اتنا تو کیوں خدا نہ ہوا

شکن ہمیشہ جبیں پر رہے تو عادت ہے
مجھے یقیں ہے وہ مجھ سے کبھی خفا نہ ہوا

تمام عمر تری ہمرہی کا شوق رہا
مگر یہ رنج کہ میں موجۂ صبا نہ ہوا

حجاب حسن سے بڑھتی ہے وار عریانی
یہی سبب ہے میں آزردۂ‌ حیا نہ ہوا

نشاط ہجر کا خوگر بنا دیا ہوتا
جفائے یار سے اتنا بھی حق ادا نہ ہوا

حیات و ہجر کا خود میں نے انتخاب کیا
میں قید کب تھا جو میں قید سے رہا نہ ہوا

دیار درد میں دل نے بہت تلاش کیا
نصیب عشق مگر تیرا نقش پا نہ ہوا

ظہیرؔ سوز دروں بھی عجب کرشمہ ہے
میں دور رہ کے بھی اس سے کبھی جدا نہ ہوا

ظہیر کاشمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم