MOJ E SUKHAN

مرنا مریض عشق کے حق میں شفا ہوا

غزل

مرنا مریض عشق کے حق میں شفا ہوا
اچھا ہوا نجات ملی کیا برا ہوا

راہ عدم کی منزل اول میں کیا ہوا
جو آیا خاک ڈال کے مجھ پر ہوا ہوا

نشتر کو ڈوبنے نہ دیا اے رگ جنوں
کیا اس کا ایک قطرۂ خوں میں بھلا ہوا

جس دل کے داغ سے ہمیں تھی چشم روشنی
رہتا ہے وہ تو شام ہی سے خود بجھا ہوا

بس ایسی چارہ سازی سے اے شوقؔ باز آئے
جس سے کہ درد اور بھی دل میں سوا ہوا

پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم