MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مرے دل پہ تیرا قبضہ مرا اختیار تو ہے

مرے دل پہ تیرا قبضہ مرا اختیار تو ہے
مری زندگی کا حاصل مرا انتظار تو ہے

ترا کس سے واسطہ ہے تجھے کس کی ہے تمنا
جو ہلاک جلوۂ غم دل بے قرار تو ہے

مری مشکلوں میں اکثر مرے کام آنے والے
مرا مونس و نگہباں مرا غم گسار تو ہے

تجھے میری جستجو ہے مجھے آرزو ہے تیری
ترا اعتبار میں ہوں مرا اعتبار تو ہے

کوئی دور دور تجھ سے کوئی پاس پاس تیرے
کہیں تو کرے ہے پردہ کہیں آشکار تو ہے

کہیں رخ چمک رہے ہیں کہیں دل مہک اٹھے ہیں
کہیں ضو فشانیاں ہیں کہیں مشک بار تو ہے

ترے در پہ آ گیا ہے یہ سیاہ کار شاطرؔ
مری بخش دے خطائیں کہ عطا شعار تو ہے

شاطر حکیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم