MOJ E SUKHAN

مژہ پہ اشک الم جھلملائے آخر شب

غزل

مژہ پہ اشک الم جھلملائے آخر شب
بچھڑنے والے بہت یاد آئے آخر شب

وہ جن کے قرب سے ڈھارس تھی میرے دل کو بہت
کوئی کہیں سے انہیں ڈھونڈ لائے آخر شب

یہ شور باد زمستاں یہ راستہ سنسان
ڈرا رہے ہے درختوں کے سائے آخر شب

ہوا میں درد کی شدت سے زمزمہ پیرا
سنے گا کون یہ میری صدائے آخر شب

روانہ ہونے کو ہے کارواں ستاروں کا
پھر اس کے بعد کہاں نقش پائے آخر شب

کدھر چلی ہے نگار فلک کسے معلوم
یہ طشت ماہ و ستارہ اٹھائے آخر شب

وہ تیری یاد کے مہمان ہو گئے رخصت
اجڑ گئی مرے دل کی سرائے آخر شب

پھر اس کے بعد وہی دھوپ ہے مشقت کی
ذرا سی دیر کو ہے خوابنائے آخر شب

نصیب ہو صف آئندگاں کو تازہ سحر
مرے لبوں پہ یہی ہے دعائے آخر شب

وہ سو گئے ہیں جنہیں جاگنے کی عادت تھی
کسے پکار رہی ہے ہوائے آخر شب

فراستؔ اب ہوئی محفل تمام گھر کو چلو
سرک رہی ہے فلک پر ردائے آخر شب

فراست رضوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم