MOJ E SUKHAN

میں کون ہوں

میں کون ہوں

موزے بیچتی جوتے بیچتی عورت میرا نام نہیں
میں تو وہی ہوں جس کو تم دیوار میں چُن کے
مثلِ صبا بے خوف ہوئے
یہ نہیں جانا
پتھر سے آواز کبھی بھی دب نہیں سکتی

میں تو وہی ہوں رسم و رواج کے بوجھ تلے
جسے تم نے چھپایا
یہ نہیں جانا
روشنی گھور اندھیروں سے کبھی ڈر نہیں سکتی

میں تو وہی ہوں گود سے جس کی پھول چنے
انگارے اور کانٹے ڈالے
یہ نہیں جانا
زنجیروں سے پھول کی خوشبو چھپ نہیں سکتی

کشور ناہید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم