MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نام میرا عاشقی کے باب میں تحریر ہے

نام میرا عاشقی کے باب میں تحریر ہے
آج بھی پیوست مجھ میں عشق کی شمشیر ہے


لٹ گئی کھلیان میں عِصمت کسی مجبور کی
زخم خوردہ گھاس پر لپٹی ہوئی تشہیر ہے


جس قدر ہے بو جھ میرے نا تواں کاندھوں پہ آج
لگ رہا ہے سب مرے اعمال کی تعزیر ہے


غیر کے در پر رہوں گر چھوڑ کر تیری گلی
یہ نصابِ عشق میں سب سے بڑی تقصیر ہے


گھونسلے میں بال و پر ہیں ہر طرف پھیلے ہوئے
شاخ پر بیٹھی ہوئی اک فاختہ دل گیر ہے


ہیں مجھے محبوب دونوں کہہ رہا ہوں آج میں
جان پاکستان ہے تو دل مرا کشمیر ہے


بھاگ سکتا ہوں کہاں عابد بھلا میں دشت سے
جب خیالِ یار میرے پاؤں کی زنجیر ہے

حنیف عابد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم