MOJ E SUKHAN

نظر آتی مجھ کو وہ چاہت نہیں ہے

Nazar aati Mujh ko wo chahat Nahi Hay

غزل

نظر آتی مجھ کو وہ چاہت نہیں ہے
دلوں میں بھی کوئی محبت نہیں ہے

لبوں کو تو نازک کہا میر نے تھا
مگر تیرے لب کی وہ حالت نہیں ہے

کیے جا رہا ہے کنارا کشی تو
محبت کی تجھ کو ضرورت نہیں ہے

ریاست مدینے کے دعوے بہت ہیں
مگر ٹھیک ان کی تو نیت نہیں ہے

وطن میں مرے آگ مہنگائی کی ہے
کہیں اچھی دیکھی حکومت نہیں ہے

تھے آئے بڑی شان سے کرنے خدمت
رہی اچھی اب ان کی شہرت نہیں ہے

سمجھتے ہیں معصوم کی شاعری کو
محبت ہے اس میں رقابت نہیں ہے

انعام الحق معصوم صابری

Inam Ul Haq Masoom Sabri

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم