MOJ E SUKHAN

نظم پہاڑی کی آخری شام 

پہاڑی کی آخری شام

ایشیا کی اس ویران پہاڑی پر

موت ایک خانہ بدوش لڑکی کی طرح
گھوم رہی ہے

میری روشنی
اور انار کے درختوں میں

قزاقوں کے چاقو چمکتے ہیں
اور سر پر وہ چاند ہے جو اس

پہاڑی کا پہلا پیغمبر ہے
اس پہاڑی پر فاطمہ رہتی ہے

اس کے کپڑوں میں وہ کبوتر ہیں
جو کبھی اڑ نہیں سکتے

خدا نے ہمیں ایک غار میں
بند کر دیا ہے اور ہمارے سروں پر

سیاہ رات جیسا پتھر رکھ دیا ہے

 

قمر جمیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم