MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نہ کوئی دوست نہ دشمن عجیب دنیا ہے

نہ کوئی دوست نہ دشمن عجیب دنیا ہے
یہ زندگی ہے کہ تنہائیوں کا صحرا ہے

بدلتے رہتے ہیں ہر موڑ پر سفر کے رفیق
غم حیات مگر ساتھ ساتھ چلتا ہے

یہ شہر درد ہے لوگوں سنبھل سنبھل کے چلو
ہر ایک ذرہ میں آباد دل کی دنیا ہے

بنائے گا یہ نیا آسمان فکر و نظر
غبار راہ جو پامال ہو کے اٹھا ہے

جو دیکھیے تو بگولہ ہے ریگ‌ آوارہ
جو سوچئے تو یہی آبروئے صحرا ہے

کچھ آج رنگ ہے میلا فضا کے آنچل کا
ضرور آدم خاکی ادھر سے گزرا ہے

سروشؔ وادئ غربت سے بے خبر گزرو
تمہارے ساتھ محبت کا نرم سایہ ہے

رفعت سروش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم