MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں

وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں

وہ فاصلے بھی گئے اب وہ قربتیں بھی گئیں

۔

دلوں کا حال تو یہ ہے کہ ربط ہے نہ گریز

محبتیں تو گئیں تھی عداوتیں بھی گئیں

۔

لبھا لیا ہے بہت دل کو رسم دنیا نے

ستم گروں سے ستم کی شکایتیں بھی گئیں

۔

غرور کج کلہی جن کے دم سے قائم تھا

وہ جرأتیں بھی گئیں وہ جسارتیں بھی گئیں

۔

نہ اب وہ شدت آوارگی نہ وحشت دل

ہمارے نام کی کچھ اور شہرتیں بھی گئیں

۔

دل تباہ تھا بے نام حسرتوں کا دیار

سو اب تو دل سے وہ بے نام حسرتیں بھی گئیں

۔

ہوئے ہیں جب سے برہنہ ضرورتوں کے بدن

خیال و خواب کی پنہاں نزاکتیں بھی گئیں

۔

ہجوم سرو و سمن ہے نہ سیل نکہت و رنگ

وہ قامتیں بھی گئیں وہ قیامتیں بھی گئیں

۔

بھلا دیے غم دنیا نے عشق کے آداب

کسی کے ناز اٹھانے کی فرصتیں بھی گئیں

۔

کرے گا کون متاع خلوص یوں ارزاں

ہمارے ساتھ ہماری سخاوتیں بھی گئیں

۔

نہ چاند میں ہے وہ چہرہ نہ سرو میں ہے وہ جسم

گیا وہ شخص تو اس کی شباہتیں بھی گئیں

۔

گیا وہ دور غم انتظار یار سحرؔ

اور اپنی ذات پہ دانستہ زحمتیں بھی گئیں

سحر انصاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم