MOJ E SUKHAN

وعدہ کرکے بھول گئے ہو

وعدہ کرکے بھول گئے ہو
یہ کیا کرکے بھول گئے ہو

اچھا خاصہ پورا انساں
آدھا کرکے بھول گئے ہو

ویسا تو پھر ہونا ہی تھا
جیسا کرکے بھول گئے ہو

بیگانوں کے بیچ میں کس کو
اپنا کرکے بھول گئے ہو

اچھے شام ہو اک دیوانی
رادھا کرکے بھول گئے ہو

کون ہے آنے والا ناحق
در وا کرکے بھول گئے ہو

آنسو ہیں یہ بچھتاوے کے
کیا کیا کرکے بھول گئے ہو

کرن رباب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم