MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ جو بے نیاز جہاں کرے مجھے اس نظر کی تلاش ہے

غزل

وہ جو بے نیاز جہاں کرے مجھے اس نظر کی تلاش ہے
جو تجھے بنا دے غم آشنا مجھے اس اثر کی تلاش ہے

نہ رہے جہاں پہ پہنچ کے پھر کسی در پہ جانے کی آرزو
جہاں عشق کی بھی ہے آبرو مجھے ایسے در کی تلاش ہے

جہاں بکھری پیار کی داستاں جہاں ذرہ ذرہ ہے آستاں
وہ مری زمیں مرا آسماں اسی رہ گزر کی تلاش ہے

ہیں تجھی سے حسن کی شوخیاں ہیں تجھی سے عشق کی گرمیاں
دل زندہ تیری تلاش ہی مری عمر بھر کی تلاش ہے

وہ بھی کیا مزے کی تھی زندگی جو سفر سفر میں گزر گئی
نہیں منزلوں میں وہ دل کشی مجھے پھر سفر کی تلاش ہے

جہاں رقص میں ہو کرن کرن جہاں غنچے چٹکیں چمن چمن
نظر آئے جس میں وہ سیم تن مجھے اس سحر کی تلاش ہے

یہ تبسم ان کا تھا لٹ گیا سر راہ دل کا یہ قافلہ
وہ جو بے خبر سا چلا گیا اسی بے خبر کی تلاش ہے

جہاں درد و داغ کی جستجو جہاں نت نئی نئی آرزو
کہ جسے تلاش سکوں نہیں مجھے اس جگر کی تلاش ہے

جے کرشن چودھری حبیب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم