MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ٹوٹتا کیوں ہے بار بار یہ دل

ٹوٹتا کیوں ہے بار بار یہ دل
مانتا کیوں نہیں ہے ہار یہ دل

پیار میں ہر طرف خسارہ ہے
کیسا کرتا ہے کاروبار یہ دل

کوئی اس کو سنبھالنے آئے
اب حدوں سے ہوا ہے پار یہ دل

دھڑکنوں میں چھپا یہ جاپ ہے کیا
کس کو کرتا ہے اب شمار یہ دل

رات دن کس کو یاد کرتا ہے
رات دن کیوں ہے بیقرار یہ دل

جب دھڑکتا ہے مجھ کو ڈستا ہے
مجھ کو لگنے لگا ہے مار یہ دل

اس کو پھر رب سے جا ملاتا ہے
جس پہ ہوتا ہے آشکار یہ دل

نیلما ناہید درانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم