MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

چاہتوں کی بستی میں اک نیا سویرا ہو

چاہتوں کی بستی میں اک نیا سویرا ہو
دور تک خلاؤں میں یہ جہان میرا ہو

ہو تھکن نگاہوں میں گرد ہو ہتھیلی پر
رات جس جگہ اترے رین کابسیرا ہو

دھوپ روپ بکھراے میرے کچے آنگن میں
کھڑکیوں سے یہ منظر رنگ میں سنہرا ہو

چاند کی محبت میں چاندنی کی سرشاری
چاندنی کے پرتو میں عکس چاند چہرہ ہو

پھر سفر کی خواہش ہے روح میں تمازت ہے
دیکھئے کہاں اب کے زندگی کا ڈیرا ہو

جس جگہ تری فطرت خود سے ہی مقابل ہے
ٌُُُاس جگہ تری ہستی ذات کا کٹہرہ ہو

کس طرح سے مہکیں گے اس جگہ کنول دل کے
جس جگہ امنگوں پر حسرتوں پر کا پہرہ ہو

کوئ رنگ آنچل پر اب نکھر نہیں سکتا
شام کی اداسی کا رنگِ سوز گہرا ہو

شائستہ مفتی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم