غزل
چاہے کھوٹے ہیں یا کھرے ہیں ہم
دست قدرت کے لاڈلے ہیں ہم
عکس رفتہ کو دیکھیے صاحب
کتنے معصوم لگ رہے ہیں ہم
رات جیون کا گیت گاتی ہے
خواب تنویم دیکھتے ہیں ہم
عمر لگ جائے گی سنبھلنے میں
کس بلندی سے یوں گرے ہیں ہم
ایک ہنگام ہے تغیر کا
کنج نسیان میں پڑے ہیں ہم
اب بھی مہندی کا رنگ گہرا ہے
صندلیں ہاتھ پر رچے ہیں ہم
اک تماشا ہے کار زار حیات
دیکھ کر سیر ہو چکے ہیں ہم
جھلملاتے ہیں آرزو کے کنول
دل جھروکے سے جھانکتے ہیں ہم
بشریٰ مسعود