MOJ E SUKHAN

چور آئے نہیں چور لائے گئے

چور آئے نہیں چور لائے گئے
اور سروں پر ہمارے بٹھائے گئے

علم کب تھا انہیں ہے مخالف ہوا
اس لیے تیر الٹے چلائے گئے

سارے کردار ننگے پڑے دیکھ لو
رب کی جانب سے پردے اٹھائے گئے

اُن کو تاریخ نے میر جعفر لکھا
جو بھی دشمن کے دستے میں پائے گئے

میں قلم سے حقائق کو لکھتا رہا
جھوٹے قصے اگرچہ سنائے گئے

اک ستم ہے روا سالہا سال سے
بولنے والے شب میں اٹھائے گئے

کیا کریں ترجمانی وہ مظلوم کی
راہزن رہنما جب بنائے گئے

ذہنی معذور دکھنے لگے جابجا
جب اچانک دیے سب بجھائے گئے

بند باندھو نہ لوگوں کے اذہان پر
گر ہے دعوی اندھیرے مٹائے گئے

اس وطن کا ہے ماجد یہی المیہ
خیر کے نام پر ظلم ڈھائے گئے

ماجدجہانگیرمرزا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم