MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ڈوبنا جب ہو مقدر کیا کنارا دیکھنا

غزل

ڈوبنا جب ہو مقدر کیا کنارا دیکھنا
دور رہ کر ہی سہی پر تم نظارہ دیکھنا

یہ نہیں کہتا کہ ڈوبوں تو بچا لینا مجھے
ہاں مگر جاتے ہوئے مڑ کر دوبارہ دیکھنا

جیت جاتا ہوں کبھی جب زندگی کی دوڑ میں
پھر پلٹ آتی ہیں یادیں وہ تمھارا دیکھنا

آپ ہی ڈھونا ہے جب اس زندگی کے بوجھ کو
کیا کسی کو ڈھونڈنا اور کیا سہارا دیکھنا

اس جہاں میں کچھ بھی ممکن کچھ بھی ناممکن نہیں
کیا ستاروں میں الجھنا استخارہ دیکھنا

کٹ گئے یوں گھر میں بیٹھی بیٹیوں کے روز و شب
آئینے کو دیکھنا رکھنا دوبارہ دیکھنا

چپ نہ بیٹھو سب کہو کیا چاہتے ہو ہم سے تم
کچھ بتاؤ تو سہی پھر دل ہمارا دیکھنا

تم نے تو عمران یونہی کاٹ دی سب زندگی
چاہئیے تھا اس کے جلوے آشکارہ دیکھنا

احمد عمران اویسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم