MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کر گئے اتنا نکما ترے احساں ہم کو

غزل

کر گئے اتنا نکما ترے احساں ہم کو
فائدے سے بھی زیادہ ہوا نقصاں ہم کو

مے کشی سے ہمیں یہ فائدہ ہے اے زاہد
لگنے لگتے ہیں سبھی کام ہی آساں ہم کو

کون نقصان اٹھاتا ہے اصولوں کے لئے
دین و ایمان سے بڑھ کر ہیں دل و جاں ہم کو

ہم سے ناچیز بھی رکھتے ہیں یہ خواہش دل میں
کوئی سمجھے ہمیں آقا کوئی سلطاں ہم کو

آج پل باندھ رہے ہیں وہی تعریفوں کے
زندگی بھر جو سمجھتے رہے ناداں ہم کو

خود بخود ڈھونڈے گی رستہ کوئی رحمت اس کی
راس آ جائے گی خود گردش دوراں ہم کو

فکر فردا سے بڑا روگ نہیں کوئی بھی
عمر بھر رکھتی ہے بے کار پریشاں ہم کو

دل میں ہے درد ترا فکر تری پیار ترا
کیسے لگتا نہ یہ ویرانہ گلستاں ہم کو

درشن دیال پرواز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم