MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کسی کے دکھ پہ اگر ہم ملال کرتے ہیں

غزل

کسی کے دکھ پہ اگر ہم ملال کرتے ہیں
عجیب لوگ ہیں الٹا سوال کرتے ہیں

کبھی کبھی تو اسے پھونکنے کو جی چاہے
وہ گھر کہ جس کی بہت دیکھ بھال کرتے ہیں

تمہارے ساتھ نہیں مسئلہ یہ شکر کرو
جو تم کو دیکھ کے سانسیں بحال کرتے ہیں

تمہیں بکھرتے ہوئے پھول اچھے لگتے تھے
سو اپنی ذات کو ہم پائمال کرتے ہیں

بھلا ہو شہر ستم گر ترے مکینوں کا
یہ مرنے والوں کا کتنا خیال کرتے ہیں

تمہارا ہجر غنیمت ہے ایسے موسم میں
تمہارے وصل کے لمحے نڈھال کرتے ہیں

وہ جن کو ٹھیک سے آتا نہیں ہے کام کوئی
کمال ہے کہ وہ ساحرؔ کمال کرتے ہیں

جہانزیب ساحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم