MOJ E SUKHAN

کہاں کہاں سے سمیٹوں شکستہ خوابوں کو

غزل

کہاں کہاں سے سمیٹوں شکستہ خوابوں کو
کہ ضبط غم کا سلیقہ نہیں ہے آنکھوں کو

عجب بہار خزاں ہے چمن میں اب کی بار
ہوا اڑاتی پھری میرے خشک پتوں کو

سفر ابھی تو ذرا سا کیا ہے تیرے بغیر
ابھی تو رونا بہت ہے اداس آنکھوں کو

ابھی تو عمر کا یہ دشت پار کرنا ہے
چراغ کرنا ہے کچھ بے چراغ راتوں کو

وہ راستہ بھی عجب تھا وہ ہم سفر بھی کمال
جو مجھ کو سونپ گیا سر پھری ہواؤں کو

کہ جن کو کاٹ دیں خود موجۂ بہار کے ہات
سجائے کون پھر ایسی بریدہ شاخوں کو

چمکتی جاتی ہیں اور بھیگتی بھی جاتی ہیں
ہنر یہ کس نے سکھایا ہے میری پلکوں کو

میں بھول جاتی ہوں ہر صبح تیرا نام مگر
میں یاد کرتی ہوں ہر رات تیری باتوں کو

صائمہ زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم