MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

گل پیرہن رہے کہ دریدہ قبا رہے

غزل

گل پیرہن رہے کہ دریدہ قبا رہے
جس حال میں رہے ترا نقش بقا رہے

ہم تو تمام عمر تری ہی ادا رہے
یہ کیا ہوا کہ پھر بھی ہمیں بے وفا رہے

چاہی جو تو نے بات وہی بات ہم نے کی
تیری زباں بنے ترے دل کی صدا رہے

تو ساتھ ساتھ تھا تو خدائی بھی ساتھ تھی
اپنی رفاقتوں کے نشاں جا بجا رہے

تجھ کو بھلا کے بھی نہ تجھے ہم بھلا سکے
نا آشنا وہ تھے کہ جہاں آشنا رہے

سب دیکھتے تھے پھر بھی کوئی دیکھتا نہ تھا
سب کے لیے رسا تھے مگر نارسا رہے

لب پر ہو شکوہ ریز تبسم بجھا ہوا
دل میں مگر کسی کی محبت سوا رہے

تصویر کی طرح تری صورت ہو رو بہ رو
تصویر بن کے کوئی تجھے دیکھتا رہے

دل تنگ ہو تو وسعت عالم بھی تنگ تر
دنیا بہت کھلی ہے اگر دل میں جا رہے

لگتے ہی آنکھ رات کے ہنگامے سو گئے
جاگے تھے جتنی دیر قیامت بپا رہے

پھولوں نے جا کے سیج سجائی تمام رات
کانٹے چمن کے سب مرے دامن میں آ رہے

یہ جشن نا خدا ہے کہ موجوں کا رقص ہے
کشتی ہو غرق آب مگر نا خدا رہے

کہنے کو ایک لفظ مرے پاس ہے جمیلؔ
جب لے اڑے وہ بات مرے پاس کیا رہے

جمیل ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم