MOJ E SUKHAN

گم شدہ

نا جانے کب سے ہوں گمشدہ میں
پھر آج اپنی تلاش میں ہوں
وہ بیتے لمحے میری نگاہوں سے
چھپ گئے کیوں فراک پہنے
لگائے پونی وہ ننھی لڑکی
ابھی یہاں تھی کہاں گئی وہ
میں آئینوں میں تلاشتی ہوں
خلاوں میں پہروں کھوجتی ہوں
وہ اماں ، ابا وہ بھائی ، بہنیں ،
سہیلیاں سب عزیز چہرے
وہ میرا بچپن ، مری جوانی
عجیب سی ساعتوں میں مجھ سے
بچھڑ گئے ہیں
جو میں نے رکھے تھے
سینت کر اپنے دل کے بکسے میں
سارے لمحے وہ ان کے سنگ
جو گزارے لمحے وہ پیارے لمحے
سفر میں جانے کہاں گرے ہیں
وہ سرمئی خواب ناک شامیں
سنہری صبحیں وہیں کہیں راہ میں پڑی ہیں
گلاب اور موتیے کی کلیاں
سبھی کے مطلب بدل گئے ہیں
وہ پھول سیجوں پہ کھلنے والے
وہ آج قبروں پہ رل گئے ہیں
وہ چوڑیاں ، مہندی ، لال جوڑے
وہ پھول ، خوشبو وہ رنگ سارے
بکھر گئے ہیں
وہ ناچتے گاتے شوخ لمحے
جدائی کی لے میں ڈھل گئے ہیں
میں خود سے بچھڑے وہ امر لمحے
تلاشتی ہوں
میں اک اندھیری گپھا میں
صدیوں سے چل رہی ہوں
میں آج پھر خود کو ڈھونڈتی ہوں
میں برسوں پہلے سے گمشدہ ہوں

ہالہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم