غزل
ہتھیلیوں پہ یوں رنگِ حنا نکھر آیا
کہ جیسے اُلفتوں کے رنگ کا اثر آیا
ترا ہی تذکرہ اب اس قدر ہے ہر جانب
کتابِ زیست میں اکثر مجھے نظر آیا
ہر اِک حیات کی تکمیل موت ہوتی ہے
انوکھا نکتہ مرے ذہن میں اُبھر آیا
مصیبتوں نے سنوارا ، نکھارا ہے مجھ کو
مرا سلیقہ بہت شستہ سا نکھر آیا
تیری یہ تیغِ زباں تھی تند و تیز
تو پھر مجھے نہ قرارِ دل و جگر آیا
جنوں سے ہوش کی خواہش ہے کچھ زیادہ ہی
مرے سراپے میں کیسا جنوں اُتر آیا
خمیر خاک سے گُندھا ہے نوعِ آدم ؑ کا
صلاحیت سے یہ ذرّہ نکھر آیا
ثمرین ندیم ثمر